فیض آباد دھرنا مظاہرین کو رات 10 بجے تک کی ڈیڈ لائن

10 Pm deadline to end Faizabad Protest

اسلام آباد (جنگ) فیض آباد میں جاری دھرنے کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ پُرامن طریقے سے یا طاقت کا استعمال کر کے فیض آباد خالی کرایا جائے جس کے بعد اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دھرنے پر بیٹھے افراد کو آخری وارننگ جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا، رات 10بجے تک دھرنا ختم نہیں کیا تو آپریشن کیا جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ نے آپریشن کے لیے پولیس، ایف سی اور رینجرز کے دستوں کو الرٹ کردیا ،13دن سے جاری دھرنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ڈی سی اسلام آباد کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ دھرنے میں 2 ہزار کے قریب افراد شامل ہیں ،مظاہرین نے پتھر جمع کیے ہوئے ہیں اور ان کے پاس 10 سے 12 ہتھیار بھی ہیں۔

قبل ازیں اسلا م آباد ہائیکورٹ کے حکم میں کہا گیا کہ اسلام آباد انتظامیہ دھرنا ختم کرانے کے لیے ایف سی اور رینجر کی مدد بھی لے سکتی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پورے شہر کے حقوق سلب کر لیں۔

ہائی کورٹ کا عدالتی حکم میں مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ ناکام ہو گئی ہے،گزشتہ 10 دن میں انتظامیہ نے کرکٹ کے تماشائی کا کردار ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہائیکورٹ کا مذہبی جماعتوں کو دھرنا ختم کرنے کا حکم

اس سے قبل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مذہبی جماعت کےسربراہ کو دھرنا ختم کرنےکے لیے خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر دھرنا ختم نہ کیا گیا توقانون کے مطابق سخت کارروائی ہوگی۔

واضح رہے کہ ایک مذہبی و سیاسی جماعت ‘تحریک لبیک نے فیض آباد انٹرچینج پر 13 روز سے دھرنا دے رکھا ہے، جس میں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔




Recommended For You

Leave a Comment